منگلورو :17؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) ریاست کے پانچ ہوائی اڈوں کے نام بدلنے کی پیش کش ریاستی حکومت کے پیش نظر ہے، ان میں منگلورو ہوائی اڈہ بھی شامل ہونے سے نام کو لے کر بحث چل رہی ہے۔
پچھلے کئی برسوں سے سیاسی گلیاروں میں منگلوروبین الاقوامی ہوائی اڈے کو کسی نام سے موسوم کرنے کو لےکر بحث سننے میں آتی رہی ہے، جس میں سماجی مصلح کملا دیوی چٹُّوپادھیا، دکشن کنڑا کے یو شری نواس ملیا اور مجاہد آزادی رانی ابّکاّکے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں فلاں نام سےموسوم کرنے کو لے کر خطوط بھی لکھے ہیں مگر اس میں کوئی بھی باقاعدہ پیش کش کی صورت میں نہیں دیاگیا ہے۔ 2014میں اس وقت کے وزیر یو ٹی قادر نے بھی رانی ابکا کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فہرست میں منگلورو، بیلگام ، ہبلی ، میسور اور کلبرگی ہوائی اڈوں کے نام شامل ہیں۔
کیسے ہوتی ہے کارروائی :کسی ہوائی اڈے کو جس نام سے موسوم کرنا ہے اس کو لے کر کوئی اسپانسر ، انتظامیہ کی جانب سے ہوائی اڈے کے چیف کو خط لکھا جاتاہے۔ متعلقہ آفیسر ریاستی حکومت کو بھیج دیتاہے۔ ریاستی حکومت اسی کو سفارش کے لئے مرکزی ہوائی وزارت کو ارسال کرتی ہے۔ یا جس جگہ ہوائی اڈہ ہے وہاں کی گرام پنچایت اور ضلع پنچایت ہوائی اڈے کے نام کے متعلق قرارداد پاس کرتے ہوئے سرکار کو بھیجتی ہے۔
منگلورو ہوائی اڈے کے سابق ڈائرکٹر ایم آر واسو دیو کا کہنا ہے کہ مرکزی وزارت ان ناموں کی سفارشات پر غور کرتے ہوئے کارروائی کرتی ہے یا مرکزی حکومت خود بھی کسی نام سےموسوم کرسکتی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت کو ابھی تک کسی بھی نام کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ البتہ رانی ابکا اور شری نواس ملیا کے نام پر زیادہ زور دیاجارہاہے۔ اس سلسلےمیں ضلع انتظامیہ کی طرف سے مصدقہ طورپر کوئی بھی سفارش حکومت کو نہیں بھیجی گئی ہے۔ منگلورو ہوائی اڈہ فی الحال اڈانی گروپ کمپنی کے کنٹرول میں دئیے جانے سے ہوائی اڈے کے نام کو حکومت کس طرح موسوم کرتی ہے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں ہوپائی ہے۔ جب کہ دکشن کنڑا ڈپٹی کمشنر سندھو بی روپیش کا کہنا ہے کہ ابھی تک منگلورو ہوائی اڈے کے نام کو لے کر کوئی کارروائی نہیں ہو ئی ہے۔ فی الحال حکومت کی جانب سے سفارش کے لئے خط آیا ہے، اس سلسلے میں غوروفکر کرنے کے بعد نام ارسال کئے جانےکی بات کہی۔